کمرہ نمبر32

ایک بہت ھی عجیب وغریب کہانی جسے سن کرہرکوئی سوچنے پر مجبور ہوجائے.

🏬ایک ھوٹل پرایک آدمی آیا

🏢پوچھاکہ کمرہ نمبر32 چاھئے ھوٹل والے نے چابی دی.

☎آدمی کمرے میں پہنچاتو تھوڑی دیربعد ہوٹل والے نے فون کیا.کہ صاحب کچھ چاھئےتو حکم فرمائیں.

📞آدمی نے کہاہاں مجھے ایک عدد🗡کالی تیز چھری،ایک 🍉خربوزہ اور 3گز رسی چاھئے.

ہوٹل والابڑاحیران ہوگیاپتہ نہیں اس کا کیاکریگا؟؟؟

بہرحال وہ تمام چیزیں اس کی کمرے میں پہنچادی گئی.کھانے کے بارے میں پوچھا گیاتو کہاکہ کچھ بھی نہیں چاھئے یہاں تک کے پانی کی بھی ضرورت نہیں ہے.

ہوٹل والاکافی حیران تھا.بہرحال اسی کشمکش میں رات ہوگئی یہاں تک کہ آدھی رات ہوگئی.
ھوٹل والے نے عجیب وغریب آوازیں سنی.

گھبراکر معلوم کیاتو کمرہ نمبر 32 سے یہ آوازیں آرھی تھی.
ڈر کی وجہ سے اندر بھی نہیں گیا.جلدی سےواپس اپنے جگہ آکر چپکے سے سونے کی کوشش کی اس تسلی کے ساتھ کہ صبح دیکھا جائے گا.
.
.
.
اسی ڈراور خوف کے ساتھ رات گزر گئی تو صبح صبح ہوٹل والا جلدی سے اسی کمرے پر پہنچاتو دیکھا کہ سب کچھ سلامت ہے یہاں تک کے خربوزہ رسی اور چری بھی اسی جگہ رکھی ہوئی تھی جہاں رات کو رکھے گئے تھے.

آدمی نے استقبالیہ انداز میں خوش آمدید کہا اور ہوٹل والے کو ڈبل کرایہ دے کر وہاں سے رخصت ہوگیا.

ہوٹل والا ڈبل کرایہ دیکھ کچھ وقت کے لئے بھول ھی گیا کہ رات کو کیاماجراتھا.

جب یاد آیا تو بندہ تو غائب ھی ہوگیاتھا.

اسی سوچ میں ایک سال گزرگیا کہ پتہ نہیں کمرے میں کیا ہورہاتھا.

اگلے سال اسی تاریخ کو پھر وہی بندہ کمرہ نمبر32 کامطالبہ کررہاتھا اور ساتھ ایک کالی تیز چری اور اس دفعہ دو تربوز اور 6گز رسی کامطالبہ کیا.

رات کو پھر اس سے زیادہ عجیب وغریب اور ڈراؤنی آواز وں کے ساتھ رات گزر گئی.

اور صبح کو پھر سے وھی صرتحال کہ سب کچھ بحال اور بندہ اس سے ڈبل کرایہ دے پھر سے پیسے کی لالچ دلاکر ہوٹل والے سے کچھ دیر کے لئے اس کے خیالات بدل کر غایب ہوگیا.

اس سال بھی پورے سال ہوٹل والا اور زیادہ حیران تھا کہ پتہ نہیں کیاہواتھا.

ایک سال بعد پھر وہی بندہ اسی کمرے اسی تاریخ اور تیز چری اور تین تربو اور 9گز رسی کے مطالبہ کے ساتھ رات گزارنے آگیا.

اس دفعہ تو ہوٹل والے نے پکا عزم کیاتھا کہ راز معلوم کرکے ھی رہیگا.

اسی رات بھی وھی کچھ ہوا جو پچھلے دوسال ہواتھا بلکہ اس سے بھی زیادہ عجیب وغریب آوازیں اور چیخیں.

صبح ہوتے ھی ہوٹل والا کمرے کے دروازے پر کھڑاتھا اندر جاکے دیکھا تو سب کچھ پھر بھی اسی طرح سلامت.
اس نے کہاکے جناب کیاآپ جانے والے ہیں.

اس نے ہاں میں سرہلاتے ہوئے جیب سے اس سے بھی ڈبل رقم دے کر رخصت ہونے کاارادہ کیا.

لیکن ہوٹل والے نے رقم واپس دیکر کہاکہ بھائی مجھے پیسے نہیں چاھئے لیکن یہ ہر سال رات کو کیاہوتاہے مجھے راز ضرور جاننا ہے.
آدمی نے کہایہ رقم اگر ناکافی ہے تو میں مزید رقم دیدونگا.
لیکن مجھے اس راز کھولنے پر مجبور نہ کرو.

ہوٹل والے نے بھی پوراعزم کیاہواتھا کہ جب تک راز معلوم نہ کریں اس وقت تک آرام سے نہیں بیٹھے گا.

جب اس نے بہت اسرار کیاتو آدمی نے کہاایک شرط کے ساتھ آپ کو بتاسکتاہوں ورنہ نہیں شرط یہ ہے کہ آپ قسم کھالے کے کسی کو بھی اس راز کے بارے میں پتہ نہیں چلنا چاھئے ہوٹل والے قسمیں کھاکھاکربندے کو مطمئن کردیاکہ کسی کو نہیں بتائے گا.
اب وہ راز کیاتھا………
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
.
وہ مجھے بھی معلوم نہیں کیونکہ بندے نے قسم کھائی تھی کے کسی کو نہیں بتائے گا.اس لئے اس نے کسی کو نہیں بتایا ورنہ میں آپ حضرات کو ضرور بتلاتا.

تکلیف کے لئے معذرت چاھتاہوں
😜🤪😜🤪😜🤪😜