دکاندار اور عورتوں کا ادھار

یک سیدھا سادہ آدمی محلے میں سبزی بیچنے آتا تھا
سب عورتیں اس سے ادھار لیتی تھیں
اور وہ دے دیتا
کبھی کسی سے نام نہیں پوچھا
اور چپ چاپ اپنی کاپی میں لکھ لیتا
کہ کس نے کتنے کا ادھار لیا

جب کوئی عورت پوچھتی کہ میرے کتنے پیسے ہیں؟
تو کاپی چھپ کر دیکھتا اور بتا دیتا
عورتوں کو بڑی حیرت ہوتی کہ وہ بنا نام جانے بلکل صحیح حساب کیسے بتا دیتا ہے؟
اخر جلد ہی عورتوں کو اس راز کا پتا چل گیا

ایک عورتوں نے ٹیم ورک سے اکٹھے دھاوا بول کر سبزی لیتے ہوئے نظر بچا کراسکی کاپی غائب کردی

جب دیکھا تو لکھا تھا
بلّی20
نک چپٹی18
لمبی15
موٹی40
کالی20
وڈے دنداں آلی15
پتلی10
بھینس52
ٹڈی27
چشمش35
باندری32
بڑ بڑ ہی12
ڈنگے منہ والی15
ڈوری60
بھینگی45
وڈی ناساں الی52
بھوری30
ڈاکٹرنی23
اور آخر میں
ہیروئن105

! جا ماں نوں پھڑ کے لیا

منا اور منے کے ابا پہلی بار شہر گئے۔ ایک شاپنگ مال میں انھوں نے لفٹ دیکھی۔ منے نے ابا سے پوچھا کہ وہ کیا چیز ہے۔ ابا نے زندگی میں پہلی بار سلور کی دیواریں بٹن دبانے سے پھٹتے دیکھی تھیں۔ انھوں نے صاف بتایا کہ انھیں اس چیز کا علم نہیں۔ باپ بیٹا کھڑے لفٹ کو دیکھتے رہے۔ اسی دوران ایک نحیف بڑھیا ویل چیئر پر بیٹھی آئی، بٹن دبایا اور سلور کی دیواریں پھٹیں اور ایک چھوٹا سا کمرہ نمودار ہو گیا۔ وہ عورت اپنی ویل چیئر پر بیٹھی اس کمرے میں داخل ہو گئی اور دروازہ بند ہو گیا۔ بند دروازے کی ایک جانب نمبر چلنے لگے:
1-2-3-4-5-6
کچھ توقف کے بعد وہی نمبر الٹے چلنے لگے:
5-4-3-2-1
دروازہ کھلا اور ایک سنہرے بالوں والی بیس سالہ حسینہ کیٹ واک کرتی باہر نکلی۔

جذبات سے سرشار ابا نے
مُنّے کو تھام لیا
اور
کانپتی ہوئی آواز میں بولے:

جا اوئے جلدی اپنی اماں نوں پھڑ کے لیا